★پہلا سبق★

★پہلا سبق★

 کلمہ اور مہمل، اسم، اسمِ نکرہ، اسمِ معرفہ، اسمِ ضمیر، ضمیر متصل اور منفصل

کلمہ اور مہمل: ہر وہ بامعنی لفظ جو ہم ادا کرتے ہیں، کلمہ کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسی آوازیں یا الفاظ جو فی نفسہٖ کوئی معنیٰ نہ رکھتے ہوں انہیں مہمل کہا جاتا ہے۔ کلمہ کی تین صورتیں ہیں :اسم، فعل اور حرف

اسم: کسی بھی چیز، انسان، جگہ، حالت، وقت کے عام یا خاص نام کو جو اس کی شناخت بہم پہنچائے اسم کہا جاتا ہے۔ اسم کی چند اہم اقسام درج کی جاتی ہیں :

اسم نکرہ: وہ اسم جو کسی عام شے یا جگہ کو ظاہر کرے، اس سے مذکورہ شخص، شے یا جگہ پوری طرح مذکور نہیں ہو پاتا۔ مثلاً: مرد، شہر، گلستان، شارع، روز، فرس۔ ان اسماء میں مرد کے بارے میں نہیں معلوم کہ اس کا نام کیا ہے، یہی معاملہ شہر اور شارع کا ہے اور یہ بھی مذکور نہیں کہ آیا فرس سے مراد کوئی خاص گھوڑا ہے یا گھوڑا بطور قِسم مذکور ہے۔

اسم معرفہ: جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ کسی خاص شخص، جگہ، شے کو ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً: محمد بن قاسم، احمد، سلطان، گلستانِ فاطمہ، دُلدُل، لاہور، تہران، وغیرہ میں اشیاء و انفس کے نام ان کی تخصیص کر دیتے ہیں۔

اسم ضمیر: بسا اوقات گفتگو اور جملوں میں ہم اشخاص کے ناموں کی بجائے ایسے مختصر کلمات استعمال کرتے ہیں جو، ان ناموں کی طرف مکمل حوالہ بناتے ہیں۔ مثلاً: میں، وہ، آپ، تجھے (من، اُو، شما، تُرا) وغیرہ۔

 ضمیر کی دو صورتیں ہیں : منفصل اور متصل۔ ضمیر منفصل وہ ہے جہاں اسم ضمیر ایک مکمل اور آزاد لفظ کی صورت میں ہو۔ اُو (وہ واحد: واحد غائب)، ایشان (وہ جمع: جمع غائب)، تو (تُو، آپ: واحد حاضر)، شما (تم، آپ: جمع حاضر)، مَن (مَیں : واحد متکلم)، ما (ہم: جمع متکلم)

یہاں صیغوں کی ترتیب نوٹ کر لیجئے۔ گردان میں ہر جگہ یہی ترتیب ہوتی ہے۔ یعنی: (مذکر مؤنث دونوں کے لئے) پہلا صیغہ: واحد غائب، دوسرا: جمع غائب،تیسرا: واحد حاضر،چوتھا: جمع حاضر، پانچواں : واحد متکلم،اور چھٹا: جمع متکلم۔
متصل ضمیر:ایسے ضمائر جس اسم کے ساتھ آئیں اس کے ساتھ مرکب اضافی بناتے ہیں۔ مثلاً: کتابم (میری کتاب) میں م، قلمت (تیرا قلم) میں ت۔ یہ اپنے ماقبل سے لفظاً جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ مرکب اضافی کے دو جزو ہوتے ہیں۔ مضاف وہ اسم ہے جس کا کسی دوسرے اسم (یا، ضمیر) سے تعلق ہو۔ دوسرے کو مضاف الیہ کہا جاتا ہے۔ اوپر کی مثالوں میں کتاب اور قلم مضاف ہیں جب کہ میں اور تو ان کے بالترتیب مضاف الیہ ہیں۔

 مرکب اضافی کے لئے متصل ضمائر کی ترتیب ایک مثال کی صورت میں دیکھ لیجئے:


ترتیب یہی ہوتی ہے: پہلا صیغہ: واحد غائب (ش: اس کا، اس کی، اس کے)، دوسرا: جمع غائب (شان: ان کا، ان کی ان کے)،تیسرا: واحد حاضر (ت: تیرا، تیری، تیرے)،چوتھا: جمع حاضر (تان: تمہارا، تمہاری، تمہارے)،پانچواں : واحد متکلم (م: میرا، میری، میرے)،اور چھٹا: جمع متکلم (مان: ہمارا، ہماری، ہمارے)۔

مضاف مکسور ہوتا ہے اور مضاف الیہ سے پہلے واقع ہوتا ہے:نورِ نظر (نظر کا نور: مراد ہے بیٹا)، شہرِ خموشان (خاموشوں کا شہر: مراد ہے قبرستان)، آوازِ سگان (کتوں کی آواز یا بھونکنا)، رزقِ گدا (گدا کا رِزق)، نظرِ کرم (کرم کی نظر: مراد ہے عنایت، مہربانی)، ہوائے شہر (شہر کی ہوا: مراد ہے لوگوں کا مزاج اور رویہ)، جائے پناہ (پناہ کی جگہ: مراد ہے محفوظ ٹھکانا) ؛ وغیرہ میں نور، شہر، آواز وغیرہ مضاف ہیں اور نظر، خموشان، سگان وغیرہ اِن کے مضاف الیہ ہیں۔ اسی نہج پر ہم اسمائے ضمیر منفصل کے ساتھ ترکیبِ اضافی بناتے ہیں۔ یارِ من (میرا دوست)، سوئے تو (تیری سمت)، میہنِ ما (ہمارا ٹھکانا)، کارِ شما (تمہارا کام) ؛ وغیرہ۔

یہاں سیک سوال پیدا ہوتا ہے:  کتابم (میری کتاب) کہا جائے یا کتابِ من؟ دلِ تو (تیرا دل) کہا جائے یا دِلت؟ کہ ان کے معانی مماثل ہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ شعر میں لفظیاتی تقاضوں کے پیشِ نظر شاعر اپنی صوابدید کے مطابق ضمیر متصل یا ضمیر منفصل کو استعمال میں لا سکتا ہے، نثر میں لفظیات کی صوتیت اور بہاؤ کے پیش نظر جو مناسب تر ہو۔ بات وہی ہے کہ ہمیں اہلِ زبان کا تتبع کرنا ہو گا۔

شذرہ: گفتم (میں نے کہا) میں م، شنیدی (تو نے سنا) میں ی، دیدیمش (ہم نے اسے دیکھا) میں یم اور ش۔ یہ افعال کے اعتبار سے ہوتے ہیں۔ افعال کی گردان میں صیغوں کی تفصیل بعد میں آئے گی۔

No comments:

Post a Comment

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
لوگوں سے اپنے لۓ کثرت سے احپھی دعائیں کروایا کرو۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس کی دعا اس کے حق میں قبول کی جاۓ۔ یا کس کی دعا کی وجہ سے اس پر رحم کیا جاۓ۔
کنزالعمال، (3188)
●موطا امام مالک●

Pdf نوٹ: اگر آپ کے پاس اس سلسلہ کا مستند مواد یا کتاب
 :فائل کی شکل میں موجود ہوں تو ہم کوبھیج کرقرآن  کریم کی آیت

(تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
(مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ) بھلائی  اور پرہیزگاری  کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کا مصداق بنیں،اگر انتظامیہ مناسب خیال کرے تو ان شاءاللہ تعالی اس کو سائٹ پر ڈالا جائےگا۔ 

★=====★

♥کآپ کی دعاؤں کا طالب♥


⊙ جزاكم الله کل خير واحسن جزاء فی الدنيا والاخرة⊙