★دوسرا سبق★

★دوسرا سبق★

 اسم اشارہ، اسم استفہام، اسمِ موصول، اسمِ کیفیت، اور اسمِ صفت 

اسم اشارہ: کسی اسم وغیرہ کی طرف اشارہ کرنے والے کلمات، یہ دو ہیں : اشارہ قریب (یہ: این۔ جمع: ایناں، اینہا)، اور اشارہ بعید (وہ: آن۔ جمع: آناں، آنہا)۔ فارسی میں جمع بنانے کے دو معروف طریقے ہیں :
 (ا) واحد کے آخر میں ’’ہا‘‘ کا اضافہ جیسے کتابہا، قلمہا، چیزہا، کوزہ ہا؛ وغیرہ۔
 (۲) واحد کے آخر میں ’’ان‘‘ کا اضافہ جیسے مردان، کارکنان، صاحبان؛ وغیرہ۔ عام طور پر واحد غیر عاقل کے آخر میں ’’ہا‘‘ بڑھاتے ہیں اور واحد عاقل کے آخر میں ’’ان‘‘۔ مزید تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ اسمِ اشارہ جمع (قریب: اینان، اینہا؛ بعید: آنان، آنہا) میں بھی یہ امر پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اگر این یا آن کا اشارہ کسی واحد عاقل کی طرف ہو مثلاً: مرد، زن، طفل، عالم، کارکن تو اشارہ جمع کی صورت اینان، آنان ہو گی۔ اور اگر این یا آن کا اشارہ کسی واحد غیر عاقل کی طرف ہو مثلاً: شے، کتاب، تختی، میز، طیارہ وغیرہ، تو اشارہ جمع کی صورت اینہا، آنہا ہو گی۔

یاد رہے کہ اسم ضمیر اور اسم اشارہ کا محل مختلف ہوتا ہے۔ اسمِ ضمیر کسی دوسرے اسم کا قائم مقام ہوا کرتا ہے جب کہ اسمِ اشارہ کی اپنی ایک معینہ حیثیت ہے۔ اسم ضمیر پر بات پہلے ہو چکی ہے۔

اسمِ استفہام: وہ اسم ہے جس میں سوال پایا جاتا ہو۔ مثلاً: کہ (کون)،کجا (کہاں)، چہ (کیا)، چوں (کب، کیسے) ؛ وغیرہ۔ اسمِ استفہام جہاں سوالیہ کی بجائے موصولی معنے دے گا اسمِ موصول کہلائے گا۔ مثلاً: کہ (جو شخص)،کجا (جہاں)، چہ (جو چیز)، چوں (جب، جیسے) ؛ وغیرہ۔

 یہاں فارسی کے دو لفظ خاص طور پر سمجھ لیجئے: ’’ہر‘‘ اور ’’کہ‘‘۔ اردو میں ’’ہر‘‘ کے وہی معانی ہیں جو انگریزی میں every کے ہیں اور عربی میں ’’کل‘‘ کے۔ یہ لفظ جس اسم پر داخل ہو، اُس کی نوع کو مکمل احاطہ کرتا ہے۔ مثلاً: ہر شخص، ہر گھر، ہر جگہ، ہر کام، ہر وقت؛ وغیرہ۔ فارسی میں ’’ہر‘‘ اِن معانی میں بھی آتا ہے اور اسمِ استفہام کو قطعی طور پر اسمِ موصول میں بدلنے کے معانی میں بھی۔ مثلاً: کہ (کون، جو شخص)، ہر کہ (جو شخص)، چہ (کیا، جو شے)، ہر چہ (جو شے)،ہر کجا (جہاں کہیں)، وغیرہ۔ ہر چہ بادا باد (جو ہو، سو ہو)۔ گلستانِ سعدی میں ایک بہت خوبصورت جملہ ہے: ’’ہر کہ آمد عمارتِ نو ساخت‘‘ (جو بھی آیا اُس نے نئی عمارت بنائی)۔ ایک شعر دیکھئے:

ہر کس کہ گوید حرفِ زشت

جایش نباشد در بہشت

 (جو کوئی بری بات کرے گا، اس کی جگہ بہشت میں نہیں ہو گی)

لفظ ’’کہ‘‘ اردو میں حرفِ عطف بھی ہے کہ یہ دو جملوں کو آپس میں ملاتا ہے۔ دوسرا جملہ عام طور پر پہلے جملے کی بات کو آگے بڑھاتا ہے یا اس کی وجہ یا تفصیل وغیرہ بیان کر رہا ہوتا ہے۔ فارسی میں یہ اِن معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے مگر کم کم۔ بسا اوقات کچھ نافیہ جملوں میں اس ’’کہ‘‘ کو حذف کرنا راجح ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر:

 (۱) ’’عطر آنست کہ خود ببود نہ عطار بگوید‘‘۔ ہم لفظ بہ لفظ ترجمہ کرتے ہوئے ایک بہت بڑی غلطی بھی کر سکتے ہیں : ’’عطر وہ ہے کہ خود مہکے نہ عطار کہے‘‘ یعنی؟ ’’نہ خود مہکے نہ عطار کہے‘‘؟ ظاہر ہے یہ درست ترجمہ ہرگز نہیں۔ اس جملے میں لفظ ’’کہ‘‘ اردو والے معانی میں آیا ہے؛ اور لفظ ’’نہ‘‘ کا درست مفہوم یہاں ’’نہ کہ‘‘ ہے: ’’عطر وہ ہے کہ خود مہکے نہ کہ عطار کہے‘‘۔ اب بات واضح ہو جاتی ہے کہ عطر کی اصل شناخت اس کی اپنی مہک ہے، عطار کہے یا نہ کہے بات یکساں ہو گی۔

 (۲) ’’بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال، تونگری بہ دل است نہ بہ مال‘‘۔ یہاں دونوں مقامات پر بالکل مثالِ بالا والی بات صادق آتی ہے۔ اس کا درست مفہوم یہ ہے: ’’بزرگی کا پیمانہ عقل ہے نہ کہ عمر، اور تونگری کا پیمانہ دل (دریا دلی) ہے نہ کہ مال و دولت‘‘۔

اسم استفہام اور اسم موصول ’’کہ‘‘ کی وضاحت اوپر ہو چکی۔ فارسی میں ’’کہ‘‘ اسمِ صفت بھی ہے؛ یعنی چھوٹا۔ اس کا متضاد ’’مِہ‘‘ ہے؛ یعنی بڑا۔ یہ چھوٹائی یا بڑائی تن و توش کے حوالے سے بھی ہو سکتی ہے اور قدر و قیمت کے حوالے سے بھی۔

کسی کیفیت، خوبی، خامی، وصف کے نام کو اسم کیفیت کہا جاتا ہے۔ نیکی، بدی، خوشی، غم، تکبر، غرور، مسکنت، جہالت، وغیرہ۔ اسمِ کیفیت کم و بیش وہی ہے جسے اردو اور عربی میں مجرد اور انگریزی میں abstract noun کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسمِ کیفیت کسی وصف کا نام ہے جبکہ اسمِ صفت کسی اسم پر کوئی وصف کے لاگو ہونے سے مشروط ہے گویا اسم صفت ایسا اسم ہے جو کسی اسم کا کوئی وصف بیان کرے۔ اس کی صورت نیک، بد، خوش، مغموم، متکبر، مسکین، جاہل وغیرہ ہو گی۔ مِہ (بڑا)، کِہ (چھوٹا) اور بِہ (اچھا) کی مثالیں اوپر بیان ہو چکیں۔ انگریزی میں adjective کی تین ڈگریوں کی طرح فارسی میں اسمِ صفت کی تفضیل (فضلیت) کے تین درجے ہوتے ہیں :

(۱) پہلا درجہ تفضیلِ نفسی کہلاتا ہے؛ اس میں کسی اسم کا صفت کے لحاظ سے کسی دوسرے سے کوئی تقابل نہیں ہوتا۔ مثلاً: یہ کتاب اچھی ہے، وہ گھر کشادہ ہے، اسلم ذہین آدمی ہے، منصور کی کار خوبصورت ہے؛ وغیرہ۔ اچھی (خوب، بہ)، کشادہ، ذہین، خوبصورت (حسین) میں کسی دوسری کتاب، گھر، شخص یا کار سے کوئی تقابل مذکور نہیں ہے۔

 (۲) دوسرا درجہ اپنی نوع کی کسی دوسری ایک یا زیادہ اشیائ، شخصیات، مقامات وغیرہ سے تقابل کی صورت ہے۔ مثالیں وہی آگے بڑھاتے ہیں : میری کتاب اسلم کی کتاب سے اچھی ہے، نسیم کا گھر حمید کے گھر کی نسبت کشادہ ہے، جمیل اپنے دونوں دوستوں سے زیادہ ذہین ہے، حمید کی کار علی کی کار سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اس صورت میں اسمِ صفت پر جزوِ لفظ ’’تر‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں : خوب تر (بہتر)، کشادہ تر، ذہین تر، حسین تر؛ وغیرہ۔ 

(۳) تیسرا درجہ تفضیلِ کل کا ہے۔ اس میں تقابل اپنی نوع کی جملہ اشیائ، شخصیات، مقامات وغیرہ سے ہوتا ہے: علم ریاضی پر یہ بہترین کتاب ہے، نوید کا گھر ساری بستی میں سب سے کھلا ہے، جمیل سکول بھر میں سب سے ذہین ہے، کار کا یہ ماڈل حسین ترین ہے۔ اس صورت میں اسمِ صفت پر جزوِ لفظ ’’ترین‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں : خوب ترین (بہترین)، کشادہ ترین، ذہین ترین، حسین ترین؛ وغیرہ۔

No comments:

Post a Comment

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
لوگوں سے اپنے لۓ کثرت سے احپھی دعائیں کروایا کرو۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس کی دعا اس کے حق میں قبول کی جاۓ۔ یا کس کی دعا کی وجہ سے اس پر رحم کیا جاۓ۔
کنزالعمال، (3188)
●موطا امام مالک●

Pdf نوٹ: اگر آپ کے پاس اس سلسلہ کا مستند مواد یا کتاب
 :فائل کی شکل میں موجود ہوں تو ہم کوبھیج کرقرآن  کریم کی آیت

(تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
(مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ) بھلائی  اور پرہیزگاری  کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کا مصداق بنیں،اگر انتظامیہ مناسب خیال کرے تو ان شاءاللہ تعالی اس کو سائٹ پر ڈالا جائےگا۔ 

★=====★

♥کآپ کی دعاؤں کا طالب♥


⊙ جزاكم الله کل خير واحسن جزاء فی الدنيا والاخرة⊙