♥زبانِ یارِ من♥

♥حرف غایت♥

برصغیر پاک و ہند کی تہذیب کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں کی ثقافت پر جتنا اثر فارسی نے چھوڑا ہے، شاید کسی اور زبان نے نہیں چھوڑا۔ سب سے اہم اور بنیادی حقیقت اردو کا رسم الخط ہے جو اسے فارسی نے عطا کیا۔ اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ جملے کی ساخت ہو، یا ترکیب سازی، معاملہ بندی ہو یا ایماء و اختصار، فارسی کا نمایاں اثر ہر صاحبِ علم کو دکھائی دیتا ہے۔ اردو شاعری بالخصوص فارسی سے فیض یاب ہوئی ہے، اکثر شعری اصناف فارسی سے آئی ہیں یا فارسی کے وسیلے سے اردو میں متعارف ہوئی ہیں۔ اردو کے اساتذہ،چوٹی کے شعراء اور دیگر اہلِ ہنر کی ایک طویل فہرست بنتی ہے جو نہ صرف اردو بلکہ فارسی زبان و بیان میں بھی ماہر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ بہت سوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر بھی کہے، نثر بھی لکھی۔ اقبال کے حوالے سے تو یہاں تک منقول ہے کہ ان کے نزدیک فارسی ہی ان کے خیالات اور فلاسفی کو ابلاغ عطا کرتی تھی۔ ہماری اردو شاعری کی بنیاد رکھنے والوں کے ہاں غزل کے ایسے نمونے بھی ملتے ہیں جن میں ایک مصرع اردو میں تو دوسرا فارسی میں ہے۔ نثر کو لے لیجئے، جملے کی ساخت سے لے کر قواعد و انشاء تک فارسی کا اثر نمایاں ہے۔

ہماری گرامر اور گردان کی بنیاد فارسی پر ہے، اور ترکیب سازی کے سارے طریقے فارسی کے ہیں۔ ایک بڑی عجیب بات حرف و معنی سے تعلق رکھنے والے طبقے کے حوالے سے دیکھنے میں آئی ہے کہ فارسی کا رسمی علم نہ رکھنے کے باوجود ان کے ہاں فارسی کا صحیح استعمال پایا جاتا ہے (یہ در اصل فارسی کے اردو میں رچاؤ کا اثر ہے)۔ تاہم جب کہیں فارسی شاعری یا نثر سے براہ راست واسطہ پڑ جائے تو ایسے احباب کے لئے مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ اس مشکل پر قابو پایا جائے اور فارسی زبان کے قواعد سے لازمی حد تک شناسائی حاصل کی جائے۔ حرف و معنی سے وابستہ احباب کے پاس اتنا ذخیرہ الفاظ ضرور موجود ہوتا ہے کہ انہیں یہ قواعد نہ تو اجنبی محسوس ہوں گے اور نہ ہی وہ ان کے اطلاق میں کوئی دقت محسوس کریں گے۔ ان اسباق کو ترتیب دیتے وقت ہم نے ایسے ہی احباب کو پیشِ نظر رکھا ہے، تاہم اتنی تفصیلات ضرور فراہم کر دی ہیں کہ فارسی پڑھنے والا عام طالب علم بھی ان اسباق سے استفادہ کر سکے۔

 ۲۰۰۱ء میں لکھا گیا یہ کتابچہ تھا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ’’اسباقِ فارسی‘‘ اور دوسرا حصہ ’’زبانِ یارِ مَن‘‘ کے زیرِ عنوان ’’ماہنامہ کاوش، ٹیکسلا‘‘ میں قسط وار شائع ہوا، بعد ازاں انٹرنیٹ پر ایک ادبی فورم ’’انگریزی اردو فارسی عربی‘‘ میں پیش کیا گیا۔ سیکھنے سکھانے کے عمل میں تاثراتی تبصروں سے کہیں زیادہ اہمیت سوالوں اور ان کے شافی جوابات کی ہوا کرتی ہے۔ انٹرنیٹ پر اکثر تبصرے تاثرات پر مشتمل تھے۔ کچھ پر مغز سوالات بھی اٹھائے گئے، جن کی روشنی میں ضروری قطع و برید کے بعد یہ صورت بن پائی ہے۔ بہ این ہمہ ان اسباق کا بنیادی مقصد فارسی زبان کے قواعد سکھانا نہیں ہے، بلکہ اہلِ قلم احباب کی فارسی سے شناسائی کو دوستی میں بدلنا ہے۔

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ کتابی اور گفتاری زبان میں عام طور پر خاصا فرق ہوتا ہے، کچھ مزید فرق وقت کے ساتھ ساتھ پیدا ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر گفتاری فارسی کا ایک لفظ ’’میخم‘‘ بہت عام مستعمل ہے۔ اس کی تشریح قواعد کے تناظر میں شاید ہی ممکن ہو۔ یہ در اصل روایتی ’’می خواہم‘‘ کی مخفف صورت ہے۔ ہمارے اہل قلم اور قاری دونوں طبقوں کا واسطہ زیادہ تر روایتی کتابی فارسی سے ہوتا ہے، لہٰذا میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کے مقصد سے اس کو وہیں تک محدود رکھا ہے۔ زبانِ فارسی جدید اور اس کے مروجہ لہجوں سے شغف رکھنے والے احباب کو مطمئن نہیں کر سکوں گا، کہ اُن کے پاس بہت بہتر، بہت وسیع اور بہت تازہ علم کے خزانے میسر ہیں۔

 دوسرے حصے ’’زبانِ یارِ من‘‘ میں ساختیات کے بارے میں مختصر مختصر توضیحات ہیں اور مثالوں سے اپنی بات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذخیرۂ الفاظ کا احاطہ تو اہلِ زبان نہیں کر پاتے، میں آپ کسی شمار قطار میں کہاں۔

مجھے اپنے قارئین سے بجا طور پر یہ امید ہے کہ میری اس کاوش کا بالاستعیاب مطالعہ فرمائیں اور مجھے میری علمی کوتاہیوں پر خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ مناسب راہنمائی بھی کریں۔

⊙پہلا حصہ⊙

No comments:

Post a Comment

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
لوگوں سے اپنے لۓ کثرت سے احپھی دعائیں کروایا کرو۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس کی دعا اس کے حق میں قبول کی جاۓ۔ یا کس کی دعا کی وجہ سے اس پر رحم کیا جاۓ۔
کنزالعمال، (3188)
●موطا امام مالک●

Pdf نوٹ: اگر آپ کے پاس اس سلسلہ کا مستند مواد یا کتاب
 :فائل کی شکل میں موجود ہوں تو ہم کوبھیج کرقرآن  کریم کی آیت

(تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
(مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ) بھلائی  اور پرہیزگاری  کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کا مصداق بنیں،اگر انتظامیہ مناسب خیال کرے تو ان شاءاللہ تعالی اس کو سائٹ پر ڈالا جائےگا۔ 

★=====★

♥کآپ کی دعاؤں کا طالب♥


⊙ جزاكم الله کل خير واحسن جزاء فی الدنيا والاخرة⊙