★تیسرا سبق★

★تیسرا سبق★

ہائے ہوز کی دو صورتیں، نون فارسی، یائے مستور، اسمِ ظرف، اسمِ تصغیر، اسمِ مکبر، مرکب ناقص: تراکیب (اضافی، توصیفی، عطفی، عددی)، حرفِ وصل، حرفِ عطف، حرفِ شرط، حرفِ وجہ و جزا، حرفِ ندا، حرفِ نافیہ، حرف اثبات 

فارسی میں دوچشمی ھ والے حروف (بھ پھ تھ ٹھ۔۔۔۔ وغیرہ) نہیں ہیں، لہٰذا ہائے ہوز کو گول (ہ) یا دوچشمی (ھ) جیسے چاہے لکھ لیجئے۔ اردو کی طرح یہاں یائے معروف اور یائے مجہول کی تخصیص کتابت میں لازم نہیں۔ فارسی میں یائے مجہول (ے) جہاں کچھ لہجوں میں ہے بھی تو اس کو قریب قریب یائے معروف (ی) کی طرح ادا کرتے ہیں۔ فارسی املاء و کتابت میں دونوں میں سے کوئی صورت بھی لکھی جا سکتی ہے۔

 فارسی کے اسماء و افعال جن کا آخری حرف الف یا واو ہو۔ جیسے ہوا، خوش بو، آہو، ادا، خدا: وغیرہ اِن کے آخر میں یائے چھُپا ہوا ہوتا ہے جو اکثر لکھا نہیں جاتا یا لکھا بھی ہو تو بولا نہیں نہیں جاتا۔ تاہم جہاں کہیں (توصیف، اضافت، جمع وغیرہ کی صورت میں) ایسا ی متحرک ہو جاتا ہے تو اس کو کہیں ی اور کہیں ہمزہ کی صورت میں لکھتے بھی ہیں اور ادا بھی کرتے ہیں۔ ہوائے غم، خوش بویات، آہوئے تاتار، خوش ادایان، ردائے سبز، خدایانِ بحر و بر۔ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ اسے ہم نے یائے مستور کا نام دیا ہے (س ت ر : ستر: چھُپنا)۔ کچھ لوگ اس کو لکھتے تو ہیں مگر ساکن ہو تو صوتیت سے ساقط کر دیتے ہیں (خوشبوی، ہوای، ادای، خدای، آہوی) اور کچھ لوگ لکھتے بھی نہیں (خوشبو، ہوا، ادا، خدا، آہو)۔ جب یہ متحرک ہو تو حسبِ موقع کہیں ’’ی‘‘ کی صورت میں اور کہیں ’’ئے‘‘ کی صورت میں لکھتے ہیں :خدایانِ بحر و بر، خوبرویان:

چاہتے ہیں خوبرویوں کو اسد

آپ کی صورت تو دیکھا چاہئے

 آہوئے تاتار، ہوائے تیز (اصلاً آہویِ تاتار، اور ہوایِ تیز)۔ واوِ عطفی کی صورت میں یائے مستور لکھی ہو یا نہ لکھی ہو، صوتیت ہمزہ کی پیدا ہوتی ہے: ’’محاورہ بین خدای و انسان‘‘۔ اس میں خدا کے بعد یائے مستورہے، اور ہم ’’خدا و انسان‘‘ بھی لکھ سکتے ہیں۔ اردو میں اس کی صوتیت ’’خدا ؤ انسان‘‘ معروف ہے، جب کہ فارسی انداز میں اسے ’’خدا یو انسان‘‘ ادا کیا جاتا ہے۔

یائے کی ایک اور صفت جو فارسی، عربی اور اردو میں مشترک ہے، اُسے ہم اپنی سہولت کے لئے صفتِ نسبتی کا نام دیتے ہیں۔ یائے نسبتی جس اسم سے ملحق ہو (آخر میں جمع ہو) اُس کے ساتھ کسی نسبت، حوالہ وغیرہ کا اظہار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر خدا سے خدائی، ہوا سے ہوائی، لاہور سے لاہوری، روم سے روم، رَے سے رازی، طے سے طائی، حضرموت سے حضرمی، اخلاق سے اخلاقی، آفاق سے آفاقی، وقت سے وقتی،دفاع سے دفاعی؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ واضح رہے کہ خستگی، پوشیدگی، برہمی، ترشی، تلخی وغیرہ صفتِ نسبتی میں نہیں آتے بلکہ یہ کیفیات کے نام ہیں اور ان کی بنیاد صفت یا اسمِ صفت پر ہوتی ہے۔

اسم ظرف: یہ دو ہوتے ہیں، ظرفِ زمان میں وقت کا معنیٰ پایا جائے جیسے: صبح (سویرا)، امروز (آج)، امشب (آج رات)، دیروز (کل: گزشتہ)، فردا (کل: آئندہ)، ماہ (مہینہ)، وغیرہ۔ ظرف مکان میں جگہ کا معنیٰ پایا جاتا ہے مثلاً: عیدگاہ، جاء نماز، دانش کدہ، مے کدہ، قحبہ خانہ، لاہور، تہران؛ وغیرہ۔ اسمِ ظرف اصولی طور پر اسمِ معرفہ کی ایک قسم ہے جیسے اسمِ عَلَم، اسمِ ضمیر وغیرہ۔ اردو اور عربی کی طرح فارسی میں بھی ظرفِ زمان اور ظرفِ مکان کے ساتھ آنے والے اکثر حرفِ جر باہم مماثل ہوتے ہیں : آج سے کل تک، گھر سے مسجد تک؛ دن میں، بستی میں ؛ فلاں پُل یا موڑ سے پہلے، فلاں وقت سے پہلے؛ دو دن کے اندر اندر، شہر کے اندر اندر؛ وغیرہ۔

اسمِ تصغیر: کسی اسم کے معنوں میں چھوٹائی، کمتری وغیرہ کا مفہوم داخل کرنے سے اسم تصغیر حاصل ہوتا ہے۔ اسمِ تصغیر بنانے کے لئے اسم کے بعد کوئی علامتِ تصغیر: ک، زہ، چہ وغیرہ لگا دیتے ہیں۔ مثلاً: صندوق سے صندوقچہ، طفل سے طفلک (لفظ ڈھولک اسی نہج پر بنا ہے، بلکہ اس کی اصل ’’دُہلک‘‘ ہے: چھوٹا ڈھول)، مشک سے مشکیزہ، وغیرہ۔ کہاں کون سی علامتِ تصغیر لگے گی، یہ اہلِ زبان پر ہے، ہمیں ان کا تتبع کرنا ہے۔ یاد رہے کہ صحنک، عینک، طفلک؛ وغیرہ کو بیٹھک، لیکھک، گندھک وغیرہ سے خلط ملط نہ کریں، اُن کی اصل ہی اور ہے۔

اسمِ مکبّر: کسی اسم کے معنوں میں بڑائی کا مفہوم داخل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اسم مکبر بنانے کے لئے اسم سے پہلے علامت تکبیر :دیو، شہ، شاہ وغیرہ لگاتے ہیں۔ مثلاً: زور سے شہ زور، کمان سے دیو کمان، تیر سے شہتیر؛ و غیرہ۔ یہاں بھی ہمیں اہلِ زبان کے ساتھ چلنا ہے۔

 ترکیب (مرکب ناقص) : کلمات کا وہ مجموعہ جس کا معنیٰ تو بنتا ہو مگر وہ مکمل جملہ نہ ہو، مرکب ناقص کہلاتا ہے، اسے ترکیب بھی کہتے ہیں۔ فارسی میں چار طرح کی تراکیب نسبتاً اہم ہیں : ترکیب اضافی، ترکیب توصیفی، ترکیب عطفی اور ترکیب عددی۔

ترکیب اضافی پر کچھ گفتگو اسمِ ضمیر کے تحت ہو چکی ہے۔ اس میں ایک اسم کا دوسرے اسم سے تعلق رکھنا ظاہر ہوتا ہے۔ علی کی کتاب (کتابِ علی)، لاہور کی سڑک (شارعِ لاہور) وغیرہ۔ نوٹ کریں کہ اردو کے بر عکس فارسی میں مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں آتا ہے۔ علامتِ اضافت (زیر) مضاف پر وارد ہوتی ہے۔ اگر مضاف الیہ کوئی اسم ضمیر ہو تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں : پہلی ضمیر منفصل کے ساتھ جیسے: زبانِ یارِ من (میرے دوست کی زبان)، شہرِ ما (ہمارا شہر)، سوئے تو (تیری طرف) ؛ اور دوسری ضمیر متصل کے ساتھ جیسے: پدرش (اس کا باپ)، دوستانم (میرے دوست)۔

 ترکیب توصیفی: ’’صفت‘‘ اور اس کی تفاضیل کا مطالعہ ہم پہلے کر چکے۔ ’’موصوف‘‘ وہ اسم ہے جس کا کوئی وصف بیان کیا جائے۔ صفت اور موصوف کے ملنے سے ترکیب توصیفی بنتی ہے۔ مثلاً: اچھا کام (کارِ خیر)، نیک لوگ (مردانِ نکو)، بڑا شہر (شہرِ بزرگ) وغیرہ۔ یہاں بھی اردو کے برعکس فارسی میں صفت بعد میں اور موصوف پہلے آتا ہے۔ علامتِ توصیف (زیر) موصوف پر وارد ہوتی ہے۔

ترکیب عطفی: دو یا زائد اسماء کو باہم ملانے کا نام ہے۔ اس مقصد کے لئے حرف عطف (و: بمعنی اور) سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلاً باد و باراں (ہوا اور بارش)، بال و پر (بال اور پر)، شمس و قمر (سورج اور چاند) ؛ وغیرہ۔

حرفِ عطف (و: بمعنی اور، کہ، نہ) دو یا زیادہ اسمائ، افعال وغیرہ کو کسی ایک مفہوم، حالت، فعل وغیرہ کے حوالے سے جمع کرتے ہیں۔

حرفِ وصل (لیکن، ولے، لہٰذا، تاہم، بہ ایں ہمہ، پس) بھی ایک حد تک حرفِ عطف کا کام کرتے ہیں۔ یہ بالعموم دو جملوں کو آپس میں ملاتے ہیں اور ان کے مفاہیم کے درمیان اثباتی، نافیہ یا کسی دیگر تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔

حرفِ شرط (گر، اگر، ار) بھی جو کسی ایک امر کو دوسرے سے مشروط کرتے ہیں۔

حرف کی کچھ مزید اقسام کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے، تفصیلات کی چنداں ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ ان میں سے اکثر کے معانی خود اپنی نوعیت کا اظہار کر دیتے ہیں۔

حرفِ ندا (اے، یا) : یہ کسی کو مخاطب کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

حرفِ وجہ و حاصل (کہ، چونکہ، تا، تا کہ، تا آنکہ، پس) : یہ کسی کام، حالت، نتیجہ وغیرہ کی وجہ یا حاصل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حرفِ نافیہ (نہ، نخیر، ولے) : یہ نفی کا معنیٰ پیدا کرتے ہیں۔

حرفِ اثبات (بلے، نَعَم) : یہ اثبات کا معنیٰ پیدا کرتے ہیں۔

حرفِ تاسف (کاش، حیف، افسوس، وائے) : یہ غم اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔

حرفِ انبساط (خوب، خوشا) : یہ مسرت کا اظہار کرنے کے لئے بولتے ہیں۔

حرفِ تحیر (چہ خوب، چہ عجب، یا وحشت) : ان میں حیرت کا اظہار ملتا ہے۔

و علیٰ ہٰذا القیاس۔


No comments:

Post a Comment

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
لوگوں سے اپنے لۓ کثرت سے احپھی دعائیں کروایا کرو۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس کی دعا اس کے حق میں قبول کی جاۓ۔ یا کس کی دعا کی وجہ سے اس پر رحم کیا جاۓ۔
کنزالعمال، (3188)
●موطا امام مالک●

Pdf نوٹ: اگر آپ کے پاس اس سلسلہ کا مستند مواد یا کتاب
 :فائل کی شکل میں موجود ہوں تو ہم کوبھیج کرقرآن  کریم کی آیت

(تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
(مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ) بھلائی  اور پرہیزگاری  کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کا مصداق بنیں،اگر انتظامیہ مناسب خیال کرے تو ان شاءاللہ تعالی اس کو سائٹ پر ڈالا جائےگا۔ 

★=====★

♥کآپ کی دعاؤں کا طالب♥


⊙ جزاكم الله کل خير واحسن جزاء فی الدنيا والاخرة⊙