(50)باب الْحَيَاءِ فِي الْعِلْمِ
باب : اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے!
Chapter: (What is said as regards): To be shy (Al-Haya) while learning (religious) knowledge
وَقَالَ مُجَاهِدٌ لاَ يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْيٍ وَلاَ مُسْتَكْبِرٌ.
وَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الأَنْصَارِ لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
[تحفة 17996 أ].
مجاہد کہتے ہیں کہ متکبر اور شرمانے والا آدمی علم حاصل نہیں کر سکتا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ انصار کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں کہ شرم انھیں دین میں سمجھ پیدا کرنے سے نہیں روکتی۔
●متکبر اپنے تکبر کی حماقت میں مبتلا ہے جو کسی سے تحصیل علم اپنی کسرشان سمجھتا ہے اور شرم کرنے والا اپنی کم عقلی سے ایسی جگہ حیادار بن رہا ہے، جہاں حیا وشرم کا کوئی مقام نہیں۔
♥حدیث نمبر (130)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ". فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ ـ تَعْنِي وَجْهَهَا ـ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ قَالَ " نَعَمْ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابومعاویہ نے خبر دی ، ان سے ہشام نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے زینب بنت ام سلمہ کے واسطے سے نقل کیا ، وہ ( اپنی والدہ ) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ام سلیم ( نامی ایک عورت ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا ( اس لیے میں پوچھتی ہوں کہ ) کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ہاں ) جب عورت پانی دیکھ لے ۔ ( یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو ) تو ( یہ سن کر ) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ( شرم کی وجہ سے ) اپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا ، یا رسول اللہ ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ! تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ، پھر کیوں اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے ( یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے ) ۔
Narrated Um Salama:
Um-Sulaim came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "Verily, Allah is not shy of (telling you) the truth. Is it necessary for a woman to take a bath after she has a wet dream (nocturnal sexual discharge?) The Prophet replied, "Yes, if she notices a discharge." Um Salama, then covered her face and asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Does a woman get a discharge?" He replied, "Yes, let your right hand be in dust (An Arabic expression you say to a person when you contradict his statement meaning "you will not achieve goodness"), and that is why the son resembles his mother."
Reference : Sahih al-Bukhari 130
In-book reference : Book 3, Hadith 72
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 3, Hadith 132
♥حدیث نمبر (131)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ". فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَادِيَةِ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَاسْتَحْيَيْتُ. فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ النَّخْلَةُ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے بیان کیا ، وہ عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ ) فرمایا کہ درختوں میں سے ایک درخت ( ایسا ) ہے ۔ جس کے پتے ( کبھی ) نہیں جھڑتے اور اس کی مثال مسلمان جیسی ہے ۔ مجھے بتلاؤ وہ کیا ( درخت ) ہے ؟ تو لوگ جنگلی درختوں ( کی سوچ ) میں پڑ گئے اور میرے دل میں آیا ( کہ میں بتلا دوں ) کہ وہ کھجور ( کا پیڑ ) ہے ، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر مجھے شرم آ گئی ( اور میں چپ ہی رہا ) تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہی ( خود ) اس کے بارہ میں بتلائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ کھجور ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے جی میں جو بات تھی وہ میں نے اپنے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کو بتلائی ، وہ کہنے لگے کہ اگر تو ( اس وقت ) کہہ دیتا تو میرے لیے ایسے ایسے قیمتی سرمایہ سے زیادہ محبوب ہوتا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:
Once Allah's Messenger (ﷺ) said, "Amongst the trees there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim, tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas and I thought of the date-palm tree but felt shy (to answer). The others asked, "O Allah's Apostle! inform us of it." He replied, "it is the date-palm tree." I told my father what had come to my mind and on that he said, "Had you said it I would have preferred it to such and such a thing that I might possess."
Reference : Sahih al-Bukhari 131
In-book reference : Book 3, Hadith 73
USC-MSA web (English) reference : Vol. 1, Book 3, Hadith 133
No comments:
Post a Comment
سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
لوگوں سے اپنے لۓ کثرت سے احپھی دعائیں کروایا کرو۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس کی دعا اس کے حق میں قبول کی جاۓ۔ یا کس کی دعا کی وجہ سے اس پر رحم کیا جاۓ۔
کنزالعمال، (3188)
●موطا امام مالک●
Pdf نوٹ: اگر آپ کے پاس اس سلسلہ کا مستند مواد یا کتاب
:فائل کی شکل میں موجود ہوں تو ہم کوبھیج کرقرآن کریم کی آیت
(تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
(مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ) بھلائی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کا مصداق بنیں،اگر انتظامیہ مناسب خیال کرے تو ان شاءاللہ تعالی اس کو سائٹ پر ڈالا جائےگا۔
★=====★
♥کآپ کی دعاؤں کا طالب♥
⊙ جزاكم الله کل خير واحسن جزاء فی الدنيا والاخرة⊙