♥لفظ قرآن کا معنی اور مفہوم♥


 ♥قرآن کا لغوی معنی♥

لفظ قرآن کی اصل کیا ہے ؟ اس سلسلے میں لغت نویسوں کے یہاں کافی اختلاف ہے ،یہ اختلاف دو طرح کا ہے ۔

★فریق اول :

ایک خیال یہ ہے کہ لفظ قرآن اللہ کی کتاب کا نام ہے اور یہ کسی اصل سے مشتق نہیں ہے یعنی اپنے آپ میں یہ مستقل لفظ ہے کسی لفظ سے نکلا اور بنا نہیں ہے ۔ یہی رائے امام شافعی رحمہ اللہ (وفات ۲۰۴ھ) اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (وفات ۷۷۴ھ) کی ہے ۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح توراۃ ، اور انجیل کا لفظ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کے لئے بطور علم استعمال ہوا ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے اسی طرح قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب کے لئے بطور علم استعمال ہوا ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔
[الإتقان في علوم القرآن: للسيوطي:۲؍۳۳۹]۔


★فریق دوم:

دوسرا خیال ہے کہ لفظ قرآن مشتق ہے لیکن جو لوگ قرآن کو مشتق مانتے ہیں ان میں بھی اختلاف ہےکہ اگر مشتق ہے توکس اصل سے مشتق ہے؟ اس باب میں چار مختلف نظریات ہیں ۔

(۱)قرآن فعل’’قَرَأَ‘‘ کا مصدر ہے،جیسے’’رُجْحَان‘‘فعل ’’رَجَحَ‘‘کا اور ’’غُفْرَان‘‘ فعل’’غَفَر‘‘ کا اس نظریہ کے قائل لحیانی اور دیگر علماءہیں۔

(۲) ایک جماعت جس میں اشعری بھی ہیں کا کہنا ہے قرآن ’’قَرَنْتُ الشيءَ بالشيءِ‘‘ سےمشتق ہے جس کا معنیٰ ہے دو چیزوں کو آپس میں ملانا۔

(۳)فرّا نحوی کاخیال ہےکہ قرآن ’’ قَرَائِن‘‘ سے مشتق ہے ۔ وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ قرآنی آیات بعض بعض کی تصدیق کرتی ہیں، اور بعض بعض کے مشابہ ہیں اوراسی کو قرائن کہا جاتا ہے۔
[ الإتقان في علوم القرآن: للسيوطي:۲؍۳۳۹۔۳۴۰]۔

●دوسرےاور تیسرے قول کےاعتبارسےقرآن کا اصل’’ قَرَنَ‘‘ ہوگا اور اس کا نون اصلی ہوگا۔

(۴) زجاج نحوی رحمہ اللہ (وفات۳۱۱ ھ) اور دیگر علمائے لغت کا خیال ہے کہ قرآن ’’فُعْلاَن‘‘ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے جو’’ القرء ‘‘ سے مشتق ہے کہا جاتا ہے ’’ قَرَأتُ الماءَ في الحوضِ‘‘ میں نے حوض میں پانی بھر دیا۔

ابو عبیدہ بصری رحمہ اللہ (وفات۲۰۹ ھ) راغب اصفہانی رحمہ اللہ (وفات۵۰۲ھ) وغیرہ بھی اسی بات کی طرف گئے ہیں اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن بعض سورتوں کو بعض سورتوں میں جمع کر دیتا ہے۔ راغب اصفہانی آگے کہتے ہیں کہ قرآن کو قرآن اس لئے کہا جاتا کہ وہ پچھلی نازل شدہ کتابوں کے فوائد جمع کئے ہوئے ہے۔

حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (وفات ۹۱۱ھ) یہ سارے اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں اس مسئلہ میں سب سے اچھی بات امام شافعی رحمہ اللہ (وفات ۲۰۴ھ) کی ہے ۔ قرآن علم ہے مشتق نہیں ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب کے لئے استعمال ہوتا ہے وہ مہموز نہیں۔
[ الإتقان في علوم القرآن: للسيوطي:۲؍۳۳۹]۔ راقم کو بھی جوبات صحیح لگتی ہے وہ یہی کہ قرآن علم ہے مشتق نہیں۔


♥قرآن کا اصطلاحی معنیٰ♥

قرآن کے اصطلاحی معنیٰ میں علماء کے الفاظ مختلف ہیں ،ان میں سے چند یہ ہیں:

(۱) ابو بکر باقلانی رحمہ اللہ (وفات۴۰۲ھ) کا کہنا ہے کہ قرآن اسے کہتے ہیں جس کی تلاوت کی جاتی ہے اور وہ مصحف میں محفوظ اور لکھا ہوا ہے۔
[ إعجاز القرآن: لأبي بكر الباقلاني ، ص:۱۶. وعبارته: ’’هو متلو محفوظ مرسوم في المصاحف‘‘.]۔

(۲) فخرالدین رازی رحمہ اللہ (وفات ۶۰۶ھ) لکھتے ہیں قرآن نام ہےان تمام باتوں کا جو دودفتیوں کے درمیان موجود ہے ۔
[ التفسير الكبير : لفخر الدين الرازي :۱؍۲۰۳]۔

(۳) شوکانی رحمہ اللہ (وفات ۱۲۵۰ھ) لکھتے ہیں وہ کلام جو رسول ﷺ پر نازل کیا گیا ،مصحفوں میں لکھا ہوا ہے، اور ہم تک تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
[ إرشاد الفحول إلى تحقيق الحق من علم الأصول : للشوكاني:۱؍۱۶۹، وعبارته : “الكلام المنزل على الرسول ، المكتوب في المصاحف ، المنقول إلينا نقلا متواترا.”]۔

(۴) شیخ زرقانی رحمہ اللہ(وفات ۱۳۶۷ھ) کہتے ہیں کہ سورہ فاتحہ کی ابتداء سے سورۃ الناس کے آخر تک جو بھی لفظ نہی پر ناز ل ہوا قرآن ہے ۔
[ مناهل العرفان في علوم القرآن: للشيخ محمد عبد العزيز الزر قاني:۱؍۲۰. وعبارته : ” اللفظ المنزل على النبي –صلى الله عليه وسلم – من أول سور ة الفاتحة إلى آخر سورة الناس.” ]۔

(۵) شیخ بکری امین کہتے ہیں : اللہ کا کلام جو محمد ﷺ پرجبرئیل کے واسطے سے نازل کیا گیا ، مصحفوں میں لکھا ہوا ہے اور سینوں میں محفوظ ہے ،اورجو ہم تک تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے ، جس کی تلاوت عبادت ہے ، سورہ فاتحہ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ ناس پر ختم ہوتا ہے۔
[ التعبير الفني في القرآن ، لبكري شيخ أمين ص:۱۲ وعبارته: ” كلام الله المنزل على خاتم الأنبياء والمرسلين ، بواسطة جبريل عليه السلام ، المكتوب بين المصاحف ، المحفوظ في الصدور ، المنقول إلينا بالتواتر ، المتعبد بتلاوته، المبدوء بسورة الفاتحة ، المختتم بسورة الناس”]۔

(۶) محمد حسین لکھتے ہیں :اللہ کا وہ کلام جوکہ معجزہ ہے ، اور محمد ﷺ کی طرف وحی کیا گیا ہے ، جس کی آیات محکم ہیں ،اور برائے عبادت وتلاوت ہر جگہ ہر زمانے میں زندگی کے تمام گوشوں میں ان آیات کے مطابق عمل کرنے کے لئے اللہ نے ان آیتوں کی تفصیل بیان کی ہے ۔
[ نور من القرآن ، محمد الحسين أبوسم ص:۱۱ وعبارته: ” كلام الله المعجز والموحى به إلى خاتم الأنبياء والمرسلين ، والذي أحكمت آياته ثم فصلت من لدن حكيم خبير للتعبد بتلاوتها والعمل بمقتضاها في جميع جوانب الحياة ،في كل زمان ومكان.”]۔

(۷) محمد صباغ لکھتے ہیں : اللہ کا کلام جوکہ معجزہ ہے ، محمد بن عبد اللہ ﷺ پر نازل شدہ وحی ہے جو مصحفوں میں لکھا ہوا ہے، ہم تک تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے ، جس کی تلاوت عبادت ہے۔
[ا للمحات في علوم القرآن ، محمد الصباغ ص:۶ وعبارته : ” كلام الله المعجز ، وحيه المنزل على نبيه محمد بن عبد الله ﷺ، المكتوب في المصاحف ، المنقول عنه بالتواتر ، المتعبد بتلاوته.”]۔

(۸) جرجانی لکھتے ہیں : جو رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، اور مصحفوں میں لکھا ہوا ہے ، آپ سے ہم تک تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے وہ قرآن ہے۔
[ التعريفات للجرجاني ص :۱۷۴ ، وعبارته : ” المنزل على الرسول الله ﷺ المكتوب في المصاحف ، المنقول عنه نقلا متواترا بل شبهة .”]۔

(۹) محمد قلعجی لکھتے ہیں : اللہ کا کلام جو معجزہ ہے، جسے اس کے رسول محمد ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے اور ہم تک تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
[معجم لغة الفقهاء ، د قلعجي ص:۳۵۹ ، وعبارته: ” كلام الله المعجز المنزل على رسوله محمد صلى الله عليه وسلم بالوحي المنقول إلينا بالتواتر.”]۔


●مذکورہ تمام تعریفات کو اگر باریکی سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ کوئی بھی تعریف قرآن کی صفتوں پر کھری نہیں اتررہی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں بیان کیا ہے ۔ انہی تعریفوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسی تعریف کی جا سکتی ہے جو جامع اور شامل ہو۔

★اللہ کا وہ کلام جوکہ معجزہ ہے ، اور محمد ﷺ کی طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ سارے مخلوق کو اس کے ذریعہ ڈرائیں، اور انہیں سارے جہاں کے رب کی توحید کی دعوت دیں، جو مصحف کی دو دفتیوں کے بیچ لکھا ہوا ہے اور وہ ہم تک تواترکے ساتھ نقل کیا گیا ہے اس کی تلاوت عبادت ہے وہ آخری زمانے تک محفوظ رہے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں جہاں کے بھلائیوں کو شامل ہے ۔


♥واللہ اعلم بل صواب ♥


No comments:

Post a Comment

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
لوگوں سے اپنے لۓ کثرت سے احپھی دعائیں کروایا کرو۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس کی دعا اس کے حق میں قبول کی جاۓ۔ یا کس کی دعا کی وجہ سے اس پر رحم کیا جاۓ۔
کنزالعمال، (3188)
●موطا امام مالک●

Pdf نوٹ: اگر آپ کے پاس اس سلسلہ کا مستند مواد یا کتاب
 :فائل کی شکل میں موجود ہوں تو ہم کوبھیج کرقرآن  کریم کی آیت

(تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
(مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ) بھلائی  اور پرہیزگاری  کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں کا مصداق بنیں،اگر انتظامیہ مناسب خیال کرے تو ان شاءاللہ تعالی اس کو سائٹ پر ڈالا جائےگا۔ 

★=====★

♥کآپ کی دعاؤں کا طالب♥


⊙ جزاكم الله کل خير واحسن جزاء فی الدنيا والاخرة⊙